Add To collaction

01-Jan-2022 ہاتھ خالی ہے

ہاتھ خالی ہے
     
       
سالِ نَو 2022 کے آغاز پر حالات کا منظرنامہ ....
باغِ ہستی کی پائمالی ہے
خون سے تر، ہر ایک ڈالی ہے
بُلبلوں کی زباں پہ ہے پہرہ
آہ ... زاغوں کی کوتوالی ہے
آگ برسا رہا ہے پھولوں پر
ایسا ظالم ، چمن کا مالی ہے
خار زاروں کو مل رہی ہے غذا
لالہ زاروں پہ خشک سالی ہے
تحفۂ گل کہاں سے لاؤں میں
ہر شجر ، نقشِ خستہ حالی ہے 
ایسی حالت میں سالِ نو آیا
جب بہاروں کا ہاتھ خالی ہے
ہو مسرت کی اب سحر یارب
چارسٗو غم کی رات کالی ہے
تیرے در سے دلِ فریدی بھی
اے خدا امن کا سوالی ہے

, طالب دعا ء
ڈاکٹر عبد العلیم خان
adulnoorkhan@gmail.com

   9
6 Comments

Simran Bhagat

18-Jan-2022 04:21 PM

Good

Reply

fiza Tanvi

18-Jan-2022 04:13 PM

Good

Reply

Amir

16-Jan-2022 07:30 PM

Good

Reply